صوفی شاعر حضرت بابا فرید گنج شکرؒ

35
185
حضرت بابا فرید
حضرت بابا فرید گنج شکرؒ

حضرت بابا فرید  

حضرت بابا فرید گنج شکرؒ  ایک عظیم پنجابی شاعر اور تیرہویں صدی کی صوفی تحریک کی ایک اہم شخصیت ہیں ۔ان کی تاریخ پیدائش اور  مقام پیدائش کے بارے میں مختلف جگہات سے مختلف تضاد ملتے ہیں تاہم ایک اندازے کے مطابق وہ ملتان سے پچیس کلومیٹر دور تاتی پور ریلوے سٹیشن کے قریب کوٹھیاں گاؤں  میں پیدا ہوئے ۔اس شہر کی تاریخ بہت پرانی ہے یہ شہر اس وقت موجود تھا جب سکندر نے اس طرف حملہ کیا تھا یہ شہر دہلی کی طرف جانے والے روڈ پر ملتان کے قریب آباد ہے ۔

جس دن بابا فرید کی پیدائش ہوئی تو وہاں کے لوگوں نے ایک مقدس شخص سے افطاری کے بارے میں پوچھا تو اس مقدس شخص کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں ایک عظیم روح نے جنم لیا ہے اور یہ معاشرہ صرف اس وقت افطار کر سکتا ہے جب وہ شیر خوار بچا دودھ پی لے ۔اسی طرح کے کئی واقعات اس صوفی بزرگ سے منسلک ہیں ۔

بچپن

بچپن میں ہی اس صوفی بزرگ  کو گنج شکر کا لقب مل گیا تھا اس واقعہ کے پیچھے بھی ایک داستان موجود ہے جب بابا فرید گنج شکر کو بچپن میں انکی والدہ نے نماز کی عادت ڈالی تو انہوں نے ہر نماز کے عوض بابا فرید کو مٹھائی(شکر) دینے کا عہد کیا مگر کسی دن ایسا ہوا کہ وہ شکر رکھنا بھول گئیں مگر اللہ کی قدرت نے اپنا کرشمہ دکھایا اور غیب سے شکر ان کی چٹائی کے نیچے آگئی ۔

جس کے بعد سے انکی والدہ ان کو گنج شکر کہنا شروع ہو گئیں   خواجہ بختیار بابا فرید کے گرو تھے  جنہوں نے انہیں  اپنے گھر والوں سے ملوایا۔ بلبان کی بیٹی کی شادی بابا فرید سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد با با فرید  اجودھن  جو اب پاکپتن  کے نام سے جانا جاتاہے  ہجرت کرگئے   اور زندگی کے آخری ایام تک وہیں پر رہے ۔ بابا فرید گنج شکر نے ۹۲ سال کی مثالی زندگی گزاری ۔بابا فرید گنج شکر ان عظیم صوفیہ کرام میں سے ایک ہیں جنہوں نے برصغیر کی عوام میں اسلام کی تعلیم دی اور ان کی وجہ سے کئی لوگ مسلمان ہوئے باب فرید گنج شکر نے بہت سادگی سے زندگی گزاری اور اپنی زندگی کا مقصد لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا بنایا ۔

مشکل شاعر

بابا فرید کو مشکل شاعر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی شاعری فارسی ، عربی ، سنسکرت اور پنجابی زبانوں کا مرکب ہے۔ ان کی شاعری کی مقبولیت کی وجہ ان کے شاعری میں استعمال کئیے الفاظ ہیں جن میں روہانیت اس قدر زیادہ ہے کہ پڑھنے والے کہ دل پر اثر کر دیتی ہے ۔بابا فرید کا مزار ہر روز سیکڑوں ہزاروں لوگوں کو  اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ ان کا عرس ہر سال ۲۵ذی الحج سے لیکر ۱۰ محرم تک منایا جاتا ہے۔ مزار پر ایک بہشتی دروازہ ہے ، جو  ۵محرم سے ۱۰ تک عقیدت مندوں کے لئے کھلتا ہے ۔مگر اس سال کرونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے اس مزار پر ہونے والے عرس کو عام عوام کے لئیے بند کر دیا ہے ۔اطلاعات کے مطابق اس بار عرس میں اس مزار پر کچھ زائرین کو جانے کی اجازت ہوگی ۔

تن ہانڈی وچ ہجر مصالہ تے اتے لون صبر دا پایا

                            غلام فریدا میں تے مر گئی آں  تینوں اجے سواد نا آیا؛؛

35 COMMENTS

  1. Seriously loads of great knowledge. [url=https://canadiantoprxstore.com/]canadian pharcharmy[/url] canada pharmacy no prescription

  2. You reported this really well. [url=https://canadianpharmhealth.com/]canadian pharmacy cialis[/url] canadian pharmacy certified canada pharmacy online

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here