قرآن کریم: ہدایت کا سرچشمہ اور ہماری زندگی

2
94
قرآن کریم
قرآن کریم: ہدایت کا سرچشمہ

قرآن کریم

قرآن کریم مکمل اور جامع ہدایات کا منبع ہے اللہ تعالی نے اپنے حبیب جو کہ سردارالانبیاءﷺ ہیں انکو اس عظیم معجزہ سے نوازا جس کی حفاظت کا زمہ خود پرور دگار نے لیا ہے یہ کتاب تمام کتب کی سردار ہے جس میں اللہ تعالی نے زندگی کا کوئی پہلو ادھورا نہیں چھورا قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں ۔

ان علینا للھدع

ترجمہ: ہمیں راہ دکھانا ضروری ہے

ہدایت

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ہر چیز کی ہدایت فرما دی ہے مثال کے طور پر جیسا کہ ایک مرغی جب اندوں پر بٹھا دی جاتی ہے تو ۲۱ دن اس نے اپنی محبت اور جسم کی گرمائش ان انڈوں میں منتقل کرنی ہوتی ہے ان کو پیار سے سیچنا ہوتا ہے آئیے دوسری طرف دیکھتے ہیں بطخ بھی انڈے دیتی ہے لیکن اس کا مسکن پانی ہے اور اس کا انڈا پانی میں محفوظ نہیں رہ سکتا یہی وجہ ہے کہ انڈوں سے بچے نکالنے کے لئیے بطخ کے انڈوں کو مرغی کے نیچے رکھا جاتا ہے اور مرغی وہی محبت اور حرارت بطخ کے انڈوں کے لئیے بھی دیتی ہے ۔

مقررہ وقت کے بعد جب بطخ کے انڈوں میں سے بچے نکل آتے ہیں تو ان کی حفاظت کی جاتی ہے اور جب بچے اس قابل ہو جاتے ہیں کہ وہ چل پھر سکیں دانا چگ سکیں تب انہیں باہر لے جایا جاتا ہے اور باہر اگر کوئی پانی کا تالاب ہو تو آپ اندازہ لگائیں گے کہ بطخ کے بچے بغیر کسی جھجک کے پانی میں چھلانگ لگا دیتے ہیں اور تیرنا شروع کر دیتے ہیں سوال یہ ہے کہ انکو تیرنا کس نے سکھایا بچے تھے بطخ کے مگر وہ نیچے مرغی کے رہے انہیں حرارت مرغی نے پہنچائی اور جب پانی میں یہ بچے کودتے ہیں تو بلاجھجک تیرنے لگتے ہیں

اللہ تعالی کی ہدایت

اس سے پہلے تو انہوں نے پانی کبھی نہیں دیکھا تھا اور انہیں کے ساتھ جو مرغی کے بچے تھے وہ پانی میں کیوں نہ کودے کس چیز نے ان کو روکا جی ہاں یہی ہے اللہ تعالی کی ہدایت ہے جو اس نے دلوں میں ڈال دی ہے اللہ تعالی نے ہر چیز کی ہدایت فرما دی ہے بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو  اپنی ماں سے غذا کیسے حاصل کرنی ہے یہ کوئی اسے کوئی نہیں بتاتا یہ ہدایت بھی اس کو اللہ تعالی نے دی ہے ۔حضرت یونسؑ کا واقعہ سے ہم سب واقف ہیں اور یہ واقع ہماری توجہ اللہ تعالی کی طرف مبذول کرتا ہے

جب حضرت یونسؑ نے اپنی قوم کو ایمان لانے کو کہا اور بار بار نصیحت کی اور کفر کو ترک کرنے کی ہدایت دی مگر وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے انہوں نے حضرت یونسؑ پر ظلم و جبر شروع کر دیا جس طرح باقی انبیاء کے ساتھ کی جاتا رہا تھا وہ ان کو تکلیف پہنچانے لگے تنگ آکر انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے آگاہ کر دیا کہ تم پر ایک دن اللہ کا عذاب لازم ہوگا قرآن کی ایک آیت میں اللہ تعالی فرماتے ہیں مچھلی والے کو یاد کرو جب وہ غصہ سے چل دیا خیال کیا کہ ہم اس کو پکڑ نہ سکیں گے

حضرت یونسؑ

اپنی قوم کی طرف سے حضرت یونسؑ کی مایوسی اللہ کو پسند نہ آئی اللہ تعالی کی رھمت سے مایوس ہو جانا اور غصے میں بستی چھوڑ کر چلے جانا اللہ تعالی کو پسند نہ آیا ان کے جانے کے بعد انکی قوم پر عذاب کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئیں تمام لوگ خوف زدہ ہوگئے ان کے سردار جمع ہو گئے اور لوگوں سے کہا کہ خدا کی قسم یہ وہی عذاب ہے تم  اس سے بچ نہ سکو گے تمام لوگ ایک میدان میں جمع ہو گئے اور اللہ کے سامنے عاجزی کرنے لگے اور معادفیاں مانگنے لگے اس کے بعد اللہ نے اس ان پر سے عذاب کو ہٹا دیا اور انہیں معاف کر دیا جبکہ حضرت یونسؑ کو اپنی قوم کے بارے میں کوئی علم نہ تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے ہدایت کرنا اللہ کا کام ہے حضرت یونسؑ کو مچھلی نے نگل لیا اور اللہ نے مچھلی کو حکم دیا کہ ان کو کھانا نہیں ہے اور نہ نقصان پہنچانا ہے ۔

اللہ تعالی ایک قرآن کی آیت میں فرماتے ہیں کہ

ٌ اور انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ خود کو ملامت کرنے لگے مچھلی انہیں آبی مخلوق کے قریب لے گئی اور انہوں نے آبی مخلوق سے اللہ کی تسبیح کی آوازیں سنیں جس کے بعد وہ بھ یوہی تسبیح کرتے رہے

لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین

ایک اور آیت میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کی پکار سن لی اور اس کو نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو یوں ہی بچا لیا کرتے ہیں مچھلی کے پیٹ سے آپ باہر آگئے کدو کے درخت نے آپ پر سایہ کیا  ایک پہاڑی بکری سے آپ حسب ضرورت غذا حاصل کرتے رہے اور اس طرح جلد ہی آپ صحت یاب ہو گئے حضرت یونسؑ کے واقوہ سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ ہمیں کبھی بھی کسی بھی حال میں مایوں نہیں ہونا چاہیے قرآن پاک سابق انبیا کے واقعات اس لئیے بیان کرتا ہے کہ ہم ہدایت حاصل کر سکیں

سورہ قلم میں اللہ تعالی حضرت محمدﷺ کے قلم کو مخاظب کر کے فرماتا ہے کہ

مچھلی والے کی طرح نہ ہو جائیے ان لوگوں کو دعوت حق دیتے رہیے ۔

اللہ تعالی اپنے حبیب کو اس بات کی تنبیہ کر رہے ہیں کہ آپﷺ  لوگوں کے رویہ سے نہ گھبرائیں تکالیف سے پریشان نہ ہوں اور نہ ہی دلبرداشتہ ہوں جیسا کہ حضرت یونسؑ نے کیا اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے ان کے رویے سے مایوس ہو گئے اور جب انہوں نے سچے دل سے توبہ کر لی اور ایمان لے آئے تو اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول کر لی عذاب کو ٹال دیا اور انکی ہدایت کی

مزید پڑھیں : امریکہ نے مشہور ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی

2 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here