مشہور عالم دین سید ضمیر اختر نقوی خالق حقیقی سے جا ملے

40
373
اختر نقوی
سید ضمیر اختر نقوی

سید ضمیر اختر نقوی

پچھلے  کچھ سالوں میں  بے انتہا مقبولیت پانے والے مشہور عالم دین ڈاکٹر سید ضمیر اختر نقوی خالق حقیقی سے جا ملے ۔ مشہور عالم دین علامہ ڈاکٹر سید ضمیر اختر نقوی کے کچھ بیانات سوشل میڈیا پر اس قدر وائرل ہوئے جن سے پاکستانی قوم میں ان کی مقبولیت میں بے بے انتہا اضافہ ہو۔سوشل میڈیا سے مقبولیت پانے والے مشہور عالم دین سید ضمیر اختر نقوی کا ۷۶ سال کی عمر میں انتقال ہوگیا زرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق  ان کے قریبی دوستوں نے ہفتہ کے روز  بتایا کہ علامہ ڈاکٹر سید ضمیر اختر نقوی کو دل کا دورہ پڑا  تھا  جس کے بعد معزز عالم دین کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں منتقل کردیا گیا تھا

۔جہاں ان کی حالت زیادہ خراب ہو گئی تھی زندگی اور موت کی کشمکش میں بالآخر موت جیت گئی اور ایک اہم اثاثہ ہم سے بہت دور چلا گیا سید ضمیر اختر نقوی کا جسد خاکی انچولی امام بارگاہ منتقل کیا گیا جہاں پر ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں ۔سید ضمیر ۲۴مارچ ۱۹۴۴کو ہندوستانی شہر لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے۔برصغیر کی تقسیم کے بعد  وہ اپنے اباو اجداد کے ساتھ پاکستان ہجرت کر گئے اور کراچی میں مقیم ہوئے  علامہ ضمیر اختر ایک مشہورخطیب اور شاعر تھے ،

 علم اور مہارت 

انہوں نے  اپنی زندگی   میں درجنوں کتابیں تصنیف کیں  جن میں شاعری اور تصورات   شامل تھے نیز قاسم بن حسن پر دو   حصوں پر مشتمل  سوانح حیات بھی شامل ہیں۔ ان کی کتاب معراج خطاب پانچ جلدوں پر مشتمل ہے۔یہ اسکالر پورے پاکستان اور دنیا میں سائنس ، تاریخ ، اور فلسفہ کے لیکچر کے لئے بھی جانے  جاتے تھے ۔ ان کی مقبولیت نہ صرف ان کے علم اور مہارت پر مبنی تھی بلکہ اپنے پیروکاروں کے لئے ان کی محبت پر بھی مبنی تھی۔

ترجمان نے بتایا کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے مشہور اسکالر کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا  انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ڈاکٹر نقوی کی مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کی کہ خدا  ان کے سوگوار  کو صبر و جمیل عطا کرے ۔مرحوم کی نماز  جنازہ  کراچی کی  ایک امام بارگاہ  شہدائے  کربلا میں ادا کی گئی   نماز  جنازہ کی امامت مولانا سید  خورشید  عابد نقوی نے کی    زرائع کے مطابق  جنازہ میں بہت سی مشہور سماجی  ، سیاسی اور مزہبی   شخصیات   نے شرکت کی  مرحوم کو وادی حسین قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔

مزید پڑھیں: صوفی شاعر حضرت بابا فرید گنج شکرؒ

40 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here