میٹرک، انٹرمیڈیٹ امتحانات کا ختمی فیصلہ آ چکا

50
753
matric and inter exams
تحریر: غضنفر علی خان

امتحانات

میٹرک اور انٹرمیڈیٹ امتحانات کے حوالے سے حکومت نے جو پالیسی دی ہے اِس میں کچھ ابہام بھی تھے۔ اِس حوالے سے پوری پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کے ابہام دور کئے گئے ہیں اور اِس حوالے سے اگر بچوں کے ذہن میںمزید کوئی ابہام ہو تو وہ بھی ان کو سوالوں سے دور کئے جا سکتے ہیں۔ ابھی چند دن پہلے وزیر تعلیم کی ہو نے والی پریس کانفرنس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اب نویں اور گیارویں جماعت کا کوئی پیپر نہیں ہو گا۔ جماعت نہم کے تمام طلباءکو جماعت دہم میں پروموٹ کر دیا گیا ہے اور اگلے سال جماعت دہم کے سالانہ امتحان میں وہ جتنے نمبرز حاصل کریں گئے ان کے اتنے ہی نمبرز کلاس نہم کے شمار کئے جائیں گئے۔

مثال کے طور پر اگلے سال اگر کوئی طالبعلم دہم کلاس کے سالانہ امتحان میں ۰۰۴ نمبر حاصل کرتا ہے تو اِس کو جماعت نہم میں بھی ۰۰۴ نمبرز ہی دئےے جائیں گئے۔اِس طرح جو کمبائن رزلٹ کارڈ جاری ہو گا وہ دسویں کلاس کے رزلٹ کو سامنے رکھتے ہوئے بنایا جائے گا۔ درج بالا مثال کیمطابق اگر کوئی طالبعلم کلاس دہم میں ۰۰۴ نمبرز لیتا ہے تو اُس کا کمبائنڈ رزلٹ ۰۰۸ نمبرز پر مشتعمل ہو گا۔ گیارویں اور بارہویں کلاس کے رزلٹ کے لئے بھی یہی فارمولا اپلائی ہو گا۔یعنی گیارویں کلاس کو بارہویں میں پروموٹ کر دیا گیا ہے اور جب وہ اگلے سال سالانہ امتحان دیں گئے تو جتنے نمبرز بارہویں کلاس میں آئیں گئے، اتنے ہی نمبرز گیارویں کلاس کے شمار کئے جائیں گئے۔

پریکٹیکلز

یہاں اس بات کا خیال رہے کہ دسویں اور بارہویں کلاس میں پریکٹیکلز بھی ہوتے ہیں۔ پریکٹیکلز کے نمبرز علیحدہ شمار کئے جائیں گئے۔ پریکٹیکلز کے نمبرز بچوں کو ان کے پیپرز کے حساب سے دئے جائیں گئے۔ یعنی جتنے نمبرز ان کے دسویں اور بارہوں کلاس کے ہو گئے اتنے ہی نمبرز ان کو نویں اور بارہویں کلاس میں دئے جائیں گئے۔ اِس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دسویں کلاس کو کلاس نہم کے پیپرز اور بارہویں کلاس کو گیارہویں کے پیپرز نہیں دینا پڑیں گئے۔اس طرح ۰۲۰۲ اور۱۲۰۲ میں کوئی کمپوزٹ امتحان نہیں ہو گا۔

اب جو بچے پچھلے سال نویں اور گیارہویں کا امتحان پاس کر چکے اور اِس سال وہ دسویں اور بارہویں کا امتحان دینے والے تھے یا دے چکے تھے ان سب کو نویں اور گیارہویں سے تین فیصد ذیادہ نمبرز دئے جائیں گئے۔ فیل ہونے والے بچوں کی کسی قسم کے اضافی نمبرز نہیں دئے جائیں گئے۔ اگر فیل ہونے والے صرف دو سبجیکٹ میں فیل ہیں تو اُنھیں گریس مارکس دے کر پاس کر دیا جائے گا۔جو بچے دوسے ذیادہ پیپرز میں فیل ہیں اُن کا ستمبر میں سپیشل امتحان لیا جائے گا۔ اِس کے علاوہ وہ بچے جو اب اپنی دسویں اور بارہوں کلاس کے نمبرز سے مطمئن نہیں کہ ہم تو دسویں اور بارہویں میں اس سے ذیادہ نمبرز لے سکتے تھے اُن کے لئے ستمبر میں سپیشل امتحان کا انعقاد ہو گا۔ جس کی رجسٹریشن وہ جولائی تک کروا سکیں گئے۔

سپیشل امتحان

اس کے علاوہ اُن بچوں کا بھی سپیشل امتحان ہو گا جنہوں نے پچھلے سال نویں اور گیارہویں کا امتحان چھوڑا تھا اور اِس سال وہ کمبائنڈ پیپرز دینا چاہتے تھے۔ اِس کے علاوہ سبجیکٹ تبد یل کرنے والوں کا بھی سپیشل امتحان ہو گا۔ مزید یہ کہ بائیو لوجی کی جگہ ریاضی اور ریاضی کی جگہ بائیولوجی، رکھنے والوں، میڈیکل سے نان میڈیکل اور نان میڈیکل سے میڈیکل میں جانے والوں کا بھی سپیشل امتحان ہو گا جو کہ ستمبر میں لیا جائے گا۔

جو بچے اِس سال ایپمرو کرنا چاہتے تھے اس سال ان کے بھی پیپرز نہیں ہونگے۔ ان کو تین فیصد اضافی نمبرز دے کر ان کا رزلٹ جاری کر دیا جائے گا۔ یعنی اِس سال جو رزلٹ کارڈ جاری ہونگے ان پر نمبروں کی تفصیل درج نہیں ہو گی۔ صرف ٹوٹل نمبرز درج ہونگے۔ ٹیکنیکل بورڈز کے پیپرز بھی نہیں ہوں گے۔یہاں بھی اسی فارمولے کے تحت نمبرز دئے جائیں گئے

مزید پڑھیں: پاکستان کے ایک ہو نہار طالب علم نے نیوٹن کا ریکارڈ توڑ دیا

50 COMMENTS

  1. Attractive component of content hosting.
    I simply stumbled upon your blog and in accession capital to assert that I get in fact enjoyed account your weblog
    posts. Anyway I’ll be subscribing for your feeds or even I fulfillment you access consistently quickly.

  2. I used to be suggested this website via my cousin. I’m no longer sure whether this submit is written by
    him as no one else recognise such specific about my difficulty.
    You are incredible! Thank you!

    Review my homepage … black mass

  3. Architecture head to your acquiescent generic cialis 5mg online update the ED: alprostadil (Caverject) avanafil (Stendra) sildenafil (Viagra) tadalafil (Cialis) instrumentation (Androderm) vardenafil (Levitra) In place of some men, old residents may announce hit the deck ED. sildenafil 20 Zfynpu nwkpxk

  4. The claim values for Levitra ODT (Staxyn) give not been reported, simply this drug provides a higher systemic pic compared with
    the film-coated expression (Levitra). For this reason, these two formulations are not like
    milligram for milligram and consequently are not standardized.
    In addition, disdain the perception that an ODT formulation would rent consequence Thomas More quickly, both the film-coated
    tablets and the ODT conceptualisation have got like onsets of action at law. http://lm360.us/

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here