واقعہ کربلا: چھ محرم کے واقعات

25
189
چھ محرم کے واقعات
واقعہ کربلا

چھ محرم کے واقعات

چھ محرم کے واقعات: نواسہ رسولﷺ کے ساتھ جنگ کرنے کے لئیے جوق در جوق لشکر یزید کربلا کے میدان میں داخل ہو رہے تھے ابن زیاد ملعون کے حکم سے امام حسینؑ کے خیمے دریائے فراط کے پاس سے ہٹا دئیے گئے ۔خیام حسینؑ کو پانی سے دور جانے کا حکم دیا جس پر امام حسینؑ نے حضرت عباسؑ کو حکم دیا کہ وہ خٖیمے اٹھ کر دور لے جائیں حضرت عباسؑ ابن زیاد کی زیارت پر اس کو سبق سکھانا چاہتے تھے مگر امام حسینؑ نے انہیں سمجھایا کہ جنگ کے لئیے ہم نے پہل نہیں کرنی ہے آپ کو جو حکم دیا ہے آپ اس پر عمل کریں خیام حسین میں پانی کی کمی ہو گئی جس پر حضرت عباسؑ پانی کا انتظام کرتے ہیں کیونکہ یزیدی فوج نے ابھی تک گھیرا تنگ نہیں کیا تھا

حضرت عباسؑ جن کی رگوں میں شیرخدا کا خون ڈور رہا تھا  ان سے جنگ کرنا آسان نہیں تھا یزیدی فوج خوفزدہ تھی کہ حضرت عباسؑ کے ہوتے ہوئے وہ کبھی بھی حضرت امام حسینؑ کے ساتھ جنگ نہیں کر سکتے تھے ۔

یزید نے دریا کے کنارے سے خیمے اٹھا کر دور لے جانے کا حکم اس لئیے دیا کیونکہ خیام حسین کو پانی سے دور کر کے انہیں بھوکا پیاسا کر کے کمزور کیا جاسکے تاکہ حضرت عباسؑ جیسے شیر سے لڑنا اور ان کے بھائیوں سے لڑنا آسان ہو سکے انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ مولاحسینؑ کے لشکر میں ۶ ماہ کا علی اصغر بھی ہے  اور بی بی سکینہ اور دیگر بچوں کے چہرے گرمی سے جھلس رہے ہیں خیام حسین میں پانی کی شدید کمی ہو چکی ہے اور باہر یزیدی فوج نے گھیرا تنگ کر لیا ہے تاکہ حضرت عباسؑ پانی لے جانے میں کامیاب نہ ہو سکیں ۔

حضرت عباسؑ

شہادت حضرت عباس ۶ محرم کے دن سے منسوب ہے ۔جب پیاس سے بچوں اور بوڑھوں کا برا حال تھا ۔علی اصغر جھولے میں موجود تھا بی بی سکینہ جو کہ حضرت امام حسینؑ کی چار سالہ بچی ہیں وہ اپنے بابا کے پاس آتی ہیں اور پانی کا تقاضا کرتی ہیں مولا امام حسینؑ جانتے ہیں کہ جس طرح صبح سے تمام اصحاب،بیٹے،بھتیجے،بھانجے،بھائی جام شہادت نوش فرما چکے ہیں اگر حضرت عباس بھی چلے گئے تو یہ واپس نہیں آئیں گے ۔حضرت عباسؑ بچوں کی حالت دیکھ کر میدان میں جانے کی اجازت مانگتے ہیں بالآخر مولا حسینؑ اجازت دے دیتے ہیں ۔

آپ یزیدی فوج کا سینہ چیرتے ہوئے جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے پانی بھرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ظالم کہتے ہیں پانی حسینؑ کے خٖیموں میں نا جانے پائے ایک ظالم چھپ کر وار کرتا ہے جس سے آپ کا دایاں بازو شہید ہو جاتا ہے دوسرا ظالم بایاں بازو شہید کرتا ہے ایک ظالم مشک میں تیر پیوست کرتا ہے

جس سے پانی بہنے لگتا ہے اور حضرت عباسؑ رونے لگتے ہیں اور اپنے آپ کو تیروں تلواروں کی زد میں دے دیتے ہیں کیونکہ بازو قلم ہو چکے ہیں جن سے مقابلہ کیا جاتا اب حالات ایسے ہیں کہ پانی بہ چکا ہے حضرت عباسؑ سوچتے ہیں میں اب خیموں میں کیا کرنے جاوْں سکینہ پیاسی ہے اور پانی بہ چکا ہے اتنے میں ایک ظالم آپ کے سر میں گرز مارتا ہے جس سے  آپ گھوڑے کی زین سے زمین کی طرف آجاتے ہیں اور امامؑ کو آواز دیتے ہیں ۔

السلام علیک یا ابا عبداللہ

حضرت عباس ؑکی شہادت سے  امام حسینؑ کا زور ٹوٹ چکا ہے مولا کی کمر جھک گئ ہے  مولا حسینؑ اپنے بھائی کا سر اپنی گود میں رکھتے ہیں عباس کی آنکھوں میں تیر لگا وا ہے مولا حسینؑ آنکھوں سے خون صاف کرتے ہیں اور حضرت عباس اپنے بھائی کا آخری دیدار کرتے ہیں  اور جام شہادت نوش فرما جاتے ہیں ۔

حضرت عباس کی اصل قبر مبارک  تحت  زری مبارک سرداب میں واقع ہے جہاں پانی قبر مبارک کا طواف کرتا ہے اور اور اس واقعہ کی یاد شرم و ندامت سے موجوں کے اتار  چڑہاو سے بتاتا رہتا ہے اور جیسے کہ رہا ہو کہ عباس ابن علی پانی لینے آئے مجھ تک اور میں ان کے ساتھ جا نا سکا  یہ پانی آپ کو روضہ تک کیسے آتا ہے اور کیسے  طواف کرتا ہے یہ کوئی نہیں جانتا  ۔مگر اس کے اس طواف سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تا قیامت  آپ کے روضہ  سے منسلک رہے گا

مزید پڑھیں : پانچ محرم کے واقعات

25 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here