چرس کو زریعے کرونا وائرس کا علاج ممکن

1
825
چرس کے استعمال سے کرونا وائرس کا علاج

کرونا وائرس کا علاج ممکن

چرس کو زریعے کرونا وائرس کا علاج ممکن ہے سننے میں عجیب لگتی یہ بات محظ ایک بات نہیں بلکہ اسرائیل میں میڈیکل کینابس ریسرچ اینڈ اینوویشن سینٹر حیفہ کے ماہرین کی ایک تحقیق ہے ماہرین نے بتایا ہے کہ چرس کے استعمال سے کرونا وائرس کا علاج ممکن ہے اور ایسے افراد جو کرونا وائرس کی وجہ سے شدید بیمار ہیں ان کا چرس سے بہت بہتر علاج کیا جا سکتا ہے ماہرین کے مطابق ہسپتال میں طبی مقاصد کے لئیے استعمال ہونے والی چرس کی مدد سے کرونا وائرس کے متاثرہ افراد کا علاج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

ایک رپورٹ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس میں انسانی جسم میں موجود پھیپڑوں میٖں خطرناک حد تک سوزش پائی جاتی ہے جو کہ سانس لینے میں دشواری اور پھر موت کا سبب بنتی ہے ۔رپورٹ کے مطابق اگر ایسے افراد کو چرس پلائی جائے تو نہ صرف اس کی جان بچائی جا سکتی ہے بلکہ کافی حد تک اس کو کرونا کے مرض سے ٹھیک بھی کیا جا سکتا ہے شدید بیمار افراد کو چرس پلانے کے بعد ان پر تحقیق کی گئی ہے اور اس تجربہ کے کافی حد تک مثبت اثرات آنے کے بعد اب یہ تحقیق دنیا کے سامنے لائی جا رہی ہے ۔

مشہور ڈاکٹر ایگال لوریا ہیون

ایک مشہور ڈاکٹر ایگال لوریا ہیون کا کہنا ہے کہ  ہم چرس کے خون کے سفید خلیوں پر ا ثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیق اس بات پر کی جا رہی ہے کہ چرس کی کتنی مقدار سوزش کے عمل پر اثر انداز ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چرس خلیوں کے نیٹ ورک میں رابطہ کاری میں مدد دیتی ہے اور امیون سسٹم کو پیغام پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ۔کینیڈا کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم کا ماننا ہے کہ انہوں نے چرس کے مضبوط تناؤ ڈھونڈے ہیں جو کورونا وائرس کے انفیکشن کو روکنے یا ان کے علاج میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ اگر چرس پر تحقیق مکمل ہو جاتی ہے اور یہ انزائم کو موڈیول کرنے میں مدد فراہم کر جاتی ہے تو اس کو بہت بہتر طریقے سے کرونا وائرس کے علاج کے لئیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔نہ صرف کرونا وائرس بلکہ چرس اور بھنگ کی مدد سے گلے کی مہلق بیماریوں کا علاج کیا جانا بھی ممکن ہے ۔تاہم ابھی حتمی رپورٹ آنا باقی ہے جس کے بعد فیصلہ ہوگا کہ یہ تحقیق جو اس وقت دنیا میں افراد کو حیران کر رہی ہے درست ہے یا نہیں

مزید پڑھیں: پاکستان سٹاک ایکسچینج پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here