کتاب دوست

0
549
کتاب
کتاب

یہ اصطلاح بار ہا سنی مگر ہمیشہ ایسے انسانوں سے ملنے کی خواہش رہی جن پر یہ اصطلاح سج سکے۔ بہت سے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا جن کو کتب بینی سے لگاو تھا اور اپنا بہت سا سرمایہ وہ کتب بینی میں صرف کر دیتے تھے۔ لیکن یہ سب ادبی ذوق رکھنے والے شہری با شندے تھے۔ لیکن جب آپ کو کھیتوں کھلیانوں اور فصلوں کے بیچوں بیچ کسی کتب خانے کے ہونے کا پتہ چلے تو یقینا اس کتاب دوست کے معنی سمجھ آ جاتے ہیں۔

قصبہ سردار پور جھنڈیر تحصیل میلسی ضلع وہاڑی میں ایک نجی لائبریری موجود ہے جسے وطن عزیز کی سے سے بڑی پرائیویٹ لائبریری کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ ان لائبریری کا نام مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری ہے۔

ملک غلام محمد چوغطہ علاقے کے ایک معروف دانشور زمیندار تھے جن کے پاس چند سو کتابیں تھیں۔ یہ کتابیں ان کے نواسوں میاں مسعود احمد جھنڈیر، میاں محمود احمد اور میاں غلام احمد کو وراثت میں ملیں۔ ان تینوں بھائیوں نے مل کر ان کتابوں کو کتب خانے کی صورت میں اکھٹا کیا اور کتب خانے کا نام بڑے بھائی کے نام کی نسبت ست رکھا اور کتابوں کو جمع کرنے کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ تینوں بھائیوں نے اپنے علاقے کا نام میاں سردار محمد کے نام کی نسبت ‘سردارپور جھنڈیر’ رکھا اور یہ علاقہ ‘کتاب بستی’ کے نام سے مشہور ہو گیا۔

یہ قابل قدر کتابوں کا زخیرہ ایک تاریخی، دینی، ثقافتی اور ادبی ورثہ کی حیثیت سے محفوظ ہے اور اس کی حفاظت کا زمہ خودان تینوں بھائیوں اور ان کی اولادوں نے اُٹھا رکھا ہے۔

یہاں تقریبا دو لاکھ پندرہ ہزار کتب، ایک لاکھ اٹھارہ ہزار جرائد و رسائل چار ہزار پچاس مخطوطات اور ایک ہزار ایک سو تریپن  قرآن الفرقان کے قلمی نسخہ جات موجود ہیں۔ یہ تینوں بھائیوں کی پچاس سالہ بغیر کسی بیرونی امداد کے جہدو جہد کا حاصل ہے۔ البتہ کتب بطور نزرانہ اور عطیہ ضرور دی اور لی جاتی ہیں۔ دو ہزار تیرہ میں یوم آزادی کے موقع پراس قومی ورثے کو صدارتی قومی سول ایوارڈ ‘تمغہ امتیاز’ سے بھی نوازا گیا۔

قابل زکر بات یہ ہے کہ 1980 کے بعد سےیہاں ایم اے، ایم فل، پی ایچ ڈی اود دیگر محقیقن کو لائبریری سے استعفادہ کرنے کی سہولت موجود ہے۔ حکومت پنجاب نے اس قصبے کو دوسرے شہروں سے ملانے اور کتب کے تلاش میں آنے والوں کی سہولت کے لئے سڑکوں کی تےتعمیر و مرمت کو بہترین طور پر ممکن بنایا ہے اور سٹیٹ بنک نے ایم سی بی بینک کو آن لائن کی سہولت بھی بہم پہنچائی ہے۔

یہاں ہر سال ملکی وغیر ملکی سینکڑوں محققین تحقیقی مواد کے حصول کے لئے آتے ہیں اور اُنھیں مناسب سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔ لائبریری کا نیا کمپلیکس 2007 میں مکمل ہوا جو 21000 مربع فٹ کورڈ ایریا پر محیط ہے۔

آٹھ کشادہ ہال، کمیٹی روم، ایڈیٹوریم، ملٹی میڈیا ورکس سٹیشن، دفتر، سٹور، ریسپشن ہال، 6 بیڈ روم پر مشتمل ہاسٹل موجود ہے جبکہ یہ لائبریری پندرہ ایکڑ خوبصورت پارک میں گھری ہوئی ہے۔

اس پارک کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں پر ہر وہ درخت موجود ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے۔ خوبصورت، نایاب اور منفرد پھولوں اے آراستہ یہ پارک آبشار کی مدد سے خوبصورتی کا مرقع نظر آتا ہے۔

حیرت انگیز چیز کتابوں کے ادب و احترام کا انوکھا انداز ہے۔ کسی انسان کو کتب خانے میں جوتے پہن کر جانے کی اجازت نہیں اور یہ احترام کا اعلی ترین درجہ ہے۔

کتابوں کیساتھ ساتھ یہاں نودرات کا بھی خزانہ موجود ہے۔ جو چیزیں اب دستیاب نہیں ہیں وہ بھی یہاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لالٹین کی لا تعداد اقسام، جدید و قدیم ریڈیو، سامان حرب، پیتل اور چاندی کے ظروف، مختلف اقسام کے حقے، ہل، لاتعداد قدیم سکے، خطاطی کے فن پارے، آلات موسیقی، نایاب تصاویر اور شعرا اور ادبا کے ہاتھ سے تحریر کیے گئے شاہکار موجود ہیں۔

آج کے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں کتابوں سے ایسی وابستگی اور بغیر کسی معاوضے کے خدمت خلق ایک افسانوی اور تخیلاتی داستان نظر آتی ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے اور اسی خدمت کی بنا پر ہم سب بحثیت پاکستانی کتاب دوست شخصیات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں ریلوے کراسنگ پر آٹو میٹک وارنگ سسٹم لگائے جانے کا فیصلہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here