کیا گرمیوں میں کرونا وائرس کی وباء ختم ہو جائے گی؟

57
3871
coronavirus
coronavirus in summer

کرونا وائرس کے علاج اور وجوہات جاننے کی لئے پوری دُنیا کے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ اِس وقت پوری دُنیا میں کرونا وائرس کے سدِ باب کے لئے تحقیقی سرگرمیاں پوری دُنیا میں زور و شور سے جاری ہیں۔ کرونا کی ویکسین اتنی جلد تیار کرنا شاید ابھی ممکن نہیں ہے۔

 کچھ ماہرین سال کا وقت مانگ رہے ہیں تو کچھ چھ ماہ کا۔اِدھر دن بدن کرونا متاثرین کی تعداد اور اِس سے ہونے والی اموات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین ویکسین کی تیاری کے ساتھ ساتھ کچھ متبادل طریقوں پر بھی غور کر رہے ہیں تا کہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے اِس وباءپر قابو پا کر متاثرین کو کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

 ماہرین اِس بات کا جائزہ لے رہیں ہیں کہ آیا ذیادہ درجہ حرارت کورونا وائرس پر کیا اثر ات مرتب کرتا ہے اور آیا کہ درجہ حرارت ذیادہ ہو جانے کی صورت میں کرنا وائرس زندہ رہ پائے گا؟۔ کرونا کی افزائش کم دجہ حرارت والے خطوں میں ذیادہ دیکھ گئی ہے۔ یوں تو اس وقت پوری دُنیا کرونا سے متاثر ہے لیکن کم درجہ حرارت والے علاقے اس کی لپیٹ میں ذیادہ ہیں۔

 اگر درجہ حرارت کے بڑھنے سے اِس کی افزائش متاثر ہوتی ہے تو یہ یقینا ایک بڑی خبر ہوگی۔ کیونکہ آگے موسمِ گرما بالکل قریب ہے۔ لیکن جب تک کرونا پر درجہ حرارت کی اثرات تجربات سے ثابت نہیں ہو جاتے تب تک کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔

اسی حوالے سے کرونا کی خاتمہ کی ایک نوید چینی سائنسدانوں نے یہ کہہ کر سنائی ہے کہ ’درجہ حرارت کا کرونا کے پھیلاﺅ کیسا تھ گہرا تعلق ہے‘ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی یہ وائرس کمزور پڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ جب بھی درجہ حرارت بڑھتا ہے تو یہ وائرس اپنی طاقت کھو دیتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اگرحالات سازگار ہوں تو یہ وائرس کافی دیر تک زند ہ رہ سکتا ہے اور اپنی بڑھوتری کرتا ہے۔ ۴ ڈگری سینٹی گریڈ یا۹۳ فارن ہائیٹ پر یہ وائرس ۸۲ دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔ اسی حوالے سے ایک سوال بھی ہے اور اُمید بھی ہے کہ کیا پاکستان میں ممکنہ درجہ حرارت کے بڑھ جانے سے یہ وائرس اپنا اثر کھو دے گا؟

یہ بات تو مصدقہ ہے کی کرونا وائرس سردی میں پھیلتا ہے۔ اب مارچ کے فوراَ بعد پاکستان میں موسمِ گرما شروع ہو نے جا رہا ہے۔ درجہ حرارت زائد ہو جانے کی وجہ سے کرونا وائرس کا اثر زائل ہو نے کا امکان ہے۔اسطرح پاکستان کرونا کے شدید حملےسے بچ جائیگا۔

ڈیٹا سائنس اور معاشیات کے ماہرین نے ہزاروں متاثرین ، اُن کی رہنے والی جگہوں کے موسم اور متاثرین کی تعداد میں اضافے کے ڈیٹا کا سائنسی تجزیہ کرنے کے بعد اِس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ نمی والے علاقوں میں کرونا کی پھیلاﺅ کی رفتار گرم علاقوں میں پھیلاﺅ کی رفتار سے کہیں ذیادہ ہے۔

معروف اخبار ایکسپریس میں شائع ہونے والی ایک خبر کیمطابق آج کل یہ خبر گردش میں ہے کہ ناول کورونا وائرس زیادہ گرمی کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر ختم ہوجاتا ہے لیکن اس بات کے حق میں کوئی ٹھوس سائنسی تحقیق موجود نہیں۔مذکورہ تحقیق میں بھی (جو بیہانگ یونیورسٹی، بیجنگ یونیورسٹی اور سنگہوا یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر کی ہے) اگرچہ ایسا کچھ نہیں کہا گیا لیکن یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ گرم و مرطوب موسم اور کورونا وائرس کی ایک سے دوسرے انسان کو منتقلی میں کمی کے مابین واضح تعلق سامنے آیا ہے۔

سوشل سائنس ریسرچ نیٹ ورک نامی اوپن ایکسس ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اِس تحقیقی مقالے میں کورونا سے متاثر ہو نے والے 4711 مریضوں اور اِن کے علاقوں میں ماحول (بشمول آپ و ہوا اور موسم) کا تجزیہ کیا گیا جس سے واضح ہوا کہ سرد اور خشک موسم میں انفلوئنزا وائرس کی طرح کورونا وائرس کا پھیلائو بھی سست افتار ہو جاتا ہے۔

علاوہ ازیں اُنھوں نے مختلف ممالک میں ناول کورونا وائرس کے پھیلائو اور موسم کا موازنہ کرنے کے بعد بتایا کہ نسبتاَ گرم موسم والے ممالک میں اِس وائرس کا پھیلائو قدرے کم جبکہ سرد اور خشک ممالک میں ذیادہ دیکھا گیا ہے۔ اِن کا کہنا ہے کہ شمالی نصف کرے میں اآئندہ چند ہفتوں کے دوران گرمی کی شدت میں اضافہ ہو جائے گا۔ جس کی بنا پر  کرونا وائرس کے حملے کا زور ٹوٹنے کی اُمید ہے۔ تاہم ا،س کا مطلب ہر گز یہ نہ لیا جائے کہ شدید گرمی اور نمی والے موسم میں کورونا وائرس کے خلاف طبی اقدامات یا احتیاطی تدابیر ختیار کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔

مذید پڑھیے: کورونا وائرس کی وجہ سے ہائڈروکسیکلوروکائن اور کلوروکین کی قلت

57 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here